کانگو بخار سے متعلق ڈپٹی کمشنر آفس جہلم میں اجلاس منعقد کیا گیا جس میں محکمہ ہیلتھ کے افسران نے بچاؤ سے متعلق بریفنگ دی

کانگو بخار سے متعلق ڈپٹی کمشنر آفس جہلم میں اجلاس منعقد کیا گیا جس میں محکمہ ہیلتھ کے افسران نے بچاؤ سے متعلق بریفنگ دی

جہلم: کانگو بخار سے متعلق ڈپٹی کمشنر آفس جہلم میں اجلاس منعقد کیا گیا جس میں محکمہ ہیلتھ کے افسران نے بریفننگ دیتے ہوئے بتایا کہ کانگو بخار بھیڑ بکریوں، مویشیوں اور اونٹ کی جلد میں پرورش پانے والے چیچڑ کے کاٹنے سے پھیلتا ہے ۔اس چیچڑ کے کاٹنے سے جانوروں کے ساتھ انسان بھی متاثرہوتے ہیں ۔ یہ چیچڑ اگر کسی انسان کو کاٹ لے تو مریض کانگو بخار میں مبتلا ہو جاتاہے۔ یہ وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے ۔ عام طور پر اس بیماری سے مویشی پال حضرات، جانوروں کو ہینڈل کرنے اور مویشیوں منڈیوں میں کام کرنے والے بیوپاری اور ورکر متاثر ہوتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ہسپتالو ں میں کانگو بخار میں مبتلا مریضوں کا علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹر ز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف انتہائی رسک پر ہوتا ہے اور ذرا سی بے احتیاطی سے یہ وائرس با آسانی دوسرے شخص میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ڈپٹی کمشنر اقبال حسین خان نے اجلاس میں مزید بتایا کہ کانگو وائرس میں مبتلا مریض کو تیز بخار کے ساتھ سر میں شدید درد، متلی، پیٹ اور پٹھوں میں بھی درد ہوتاہے اور مریض کے مسوڑوں، منہ، ناک اور مقعد سے خون رسناشروع ہو جاتا ہے ۔ اگرچہ پاکستان اور پنجاب میں کانگو وائرس کے مریض بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں تاہم ہر سال عید الاضحی کے موقع پر بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی نقل و حمل کی وجہ سے اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ اس مہلک بیماری سے بچنے کے لئے عوام احتیاطی تدابیراپنائیں۔