تاریخ کا راز   -   ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر

’’سر اگر آپ اگلے چوبیس گھنٹوں میں دہلی واپس نہ آئے تو پھر آنے کی زحمت نہ کریں کیونکہ تب بہت دیر ہو چکی ہو گی اور ہم انڈیا کھو چکے ہوں گے۔‘‘ وی پی مینن نے 4ستمبر 1947ء کو ٹیلی فون کر کے شملہ میں ماؤنٹ بیٹن سے یہ بات کہی تو اس وقت برصغیر کی آزادی کے 20 دن بھی نہیں گزرے تھے۔ماؤنٹ بیٹن نے برصغیر کی تقسیم کے بعد اقتدار کی منتقلی کا کام بڑی تیزی سے مکمل کیا تھا۔ یہ بڑی تھکا دینے والی اور اور اعصاب شکن ذمہ داری تھی۔ اب وہ انڈیا کا گورنرجنرل تھااور حقیقی اقتدار منتقل ہو چکا تھا اور وہ تھکن اتارنے شملہ آیا ہوا تھا۔شملہ برسو ں موسم گرما میں ہندوستان کا دارالحکومت رہا تھا۔ برطانوی سلطنت بحیرہ قلزم سے لے کر برما تک پھیلی ہوئی تھی۔ وائسرائے ہند سال کے پانچ مہینے اسی چھوٹے سے شہر میں بیٹھ کر اہم فیصلے کرتا تھا۔ شملہ ایک صحت افزاء اور پرسکون شہر ہے۔ سات ہزار فٹ کی بلندی پر اس چھوٹے سے شہر کے دوسری طرف ہمالہ کے بلند و بالا عظیم پہاڑ نظر آتے ہیں جو صدیوں سے برصغیر اور چین کے درمیان قدرتی سرحد کا کام کرتے رہے ہیں۔ 1947ء تک یہ ایک مکمل طور پر برطانوی شہر تھا۔ یہاں ہر طرف انگریز یا ان کے باوردی اہلکار نظر آتے تھے۔ پہلی جنگ عظیم تک اس کے خوبصورت مال روڈ پر کسی انڈین کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس شہر میں صرف تین شخصیات کی گاڑیاں آ سکتی تھیں۔ ان میں ایک وائسرائے ہند‘ دوسرا برطانوی فوج کا سربراہ اور تیسرا گورنر پنجاب تھا۔ ایک لطیفہ مشہور تھا کہ ایک مرتبہ بھگوان نے گاڑی میں شملہ آنے کی درخواست دی تو اسے مسترد کر دیا گیا۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن دہلی کے سیاسی ہنگاموں اور آگ برساتی گرمی سے تنگ آ کر شملہ آ گیا تھا۔ اس طلسماتی شہر میں ایک عجب راحت اور سکون کا احساس ہو رہا تھا، مگر 10بجے وائسریگل لاج کے ٹیلی فون نے اس کا سکون غارت کر دیا تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن وی پی مینن کو بہت پسند کرتا تھا اور اس کی رائے کا احترام کرتا تھا۔ اب مینن اسے دہلی واپس آنے کے لئے کہہ رہا تھا:’’میں ابھی یہاں پہنچا ہوں۔ اگر کسی اہم دستاویزپر دستخط کرانے ہیں تو وہ مجھے یہاں بھجوا دو۔‘‘ ماؤنٹ بیٹن نے مینن کی درخواست کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔۔۔’’سر یہاں سیاسی حالات بہت خراب ہو رہے ہیں۔ دہلی میں فسادات ہو رہے ہیں۔ اندازہ نہیں ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ وزیراعظم اور ڈپٹی وزیراعظم بہت زیادہ پریشان ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ آپ کا یہاں واپس آنا بہت ضروری ہے‘‘۔۔۔’’مگر کیوں؟‘‘ ماؤنٹ بیٹن نے استفسار کیا۔۔۔’’ان کو آپ کے مشورے سے زیادہ آپ کی عملی مدد کی ضرورت ہے‘‘۔۔۔’’وی پی! میرا خیال ہے کہ وہ ایسا نہیں چاہ سکتے۔ انہوں نے ابھی ابھی آزادی حاصل کی ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایک آئینی سربراہ واپس آئے اور معاملات میں مداخلت کرے۔ میں واپس نہیں آ رہا ہوں آپ انہیں بتا دیں۔‘‘

وی پی مینن نے جب حالات کی سنگینی کا تذکرہ کیا تو ماؤنٹ بیٹن نے بادل نخواستہ اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے کہا :’’آل رائٹ! وی پی! تم پرانے پاپی ہو۔ تم جیت گئے۔ میں واپس آ رہا ہوں‘‘۔۔۔ماؤنٹ بیٹن جب شملہ کی خوشگوار فضا کو چھوڑ کر دہلی آ رہا تھا تو اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ کتنا بڑا چیلنج اس کا انتظار کر رہا ہے اور نہرو اور پٹیل نے کتنا بڑا فیصلہ کر لیا ہے؟۔۔۔6ستمبر 1947ء کو اتوار کے روز لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سٹڈی میں ہونے والی میٹنگ برصغیر کی تاریخ کا ایک راز رہی ہے۔ اگر اس وقت اس میٹنگ کے راز فاش ہو جاتے تو برصغیر کی سیاسی تاریخ کی کرشماتی شخصیات کا کیریئر تباہ ہو جاتا۔ لیری کولنز اور ڈومنیک لیتری نے اپنی کتاب ’’فریڈم ایٹ مڈ نائٹ‘‘ میں اس کا قدرے تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔ ان دونوں مصنفین کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے تفصیلی انٹرویو کا موقع ملا تھا اور یوں انہوں نے اپنی کتاب میں برصغیر کی تاریخ کے اہم راز فاش کئے ہیں۔اس میٹنگ میں صرف تین لوگ تھے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن‘ نہرو اور پٹیل۔ اس وقت پنجاب میں آگ و خون کا کھیل جاری تھا۔ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہو رہی تھی۔ دہلی میں فسادات ہو رہے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آنے والے دنوں میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں رہے گی۔۔۔’’آپ کو اس پر قابو پانا ہے۔‘‘ ماؤنٹ بیٹن نے کہا۔۔۔نہرو نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا ’’ہم اس پر کیسے قابو پا سکتے ہیں؟ ہمیں ایسی صورتحال کنٹرول کرنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ ہم نے اپنی زندگیوں کے بہترین سال آپ کی جیلوں میں گزارے ہیں۔ ہمارا سارا تجربہ احتجاجی سیاست کا ہے۔ انتظامی امور کے متعلق ہم کچھ نہیں جانتے۔ ہم عام حالات میں تو شاید کسی منظم حکومت کو چلا سکیں۔ مگر اب جس طرح امن و امان کی صورتحال مکمل تباہ ہو رہی ہے اس کا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘ لیری کولنز اور ڈومنیک لیتری کے مطابق اس وقت نہرو نے ماؤنٹ بیٹن سے جو درخواست کی وہ اس کی عظمت کی دلیل ہے۔ اس نے اپنی انا یا کیریئر کی پروا کئے بغیر ماؤنٹ بیٹن سے درخواست کی کہ وہ برصغیر کے معاملات کو اپنے حسن تدبر اور انتظامی صلاحیتوں سے بہتر بنائے۔ قومی مفاد کے لئے اپنے سیاسی کیریئر اور انا کو داؤ پر لگانے کی ایسی مثال برصغیر کی تاریخ میں کم ہی نظر آتی ہے۔ نہرو نے ماؤنٹ بیٹن سے کہا:’’جب ہم برطانوی جیلوں میں تھے تب آپ جنگ میں اعلیٰ ترین کمانڈر کا کردار ادا کر رہے تھے۔ آپ ایک پروفیشنل اور اعلیٰ درجے کے کمانڈر ہیں۔ آپ نے لاکھوں آدمیوں کی کمان کی ہے۔ آپ کے پاس وہ تجربہ ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم ایمرجنسی کی صورتحال میں ہیں۔ ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ کیا آپ اس ملک کا انتظام سنبھال سکتے ہیں؟‘‘

’’آپ کو اس ملک کے معاملات سنبھالنے ہوں گے۔‘‘ سردار پٹیل نے نہرو کی تائید کرتے ہوئے کہا۔ماؤنٹ بیٹن ششدر رہ گیا۔ اس نے کہا ’’اگر کسی کو یہ پتہ چل گیا کہ آپ نے یہ ملک دوبارہ میرے سپرد کر دیا ہے تو آپ کا سیاسی طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔ انڈین کبھی یہ برداشت نہیں کریں گے‘‘۔۔۔’’ہم اس کو چھپانے کا کوئی طریقہ تلاش کریں گے، لیکن آپ نے ہمارا ساتھ نہ دیا تو ہم کچھ بھی نہیں سنبھال سکیں گے‘‘۔۔۔ماؤنٹ بیٹن نے کچھ دیر سوچا۔ وہ ذاتی طور پر نہرو کو پسند کرتا تھا۔ اسے انڈیا سے بھی انس ہو گیا تھا۔ آخر اس نے نہرو اور پٹیل کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ’’ٹھیک ہے میں سب کچھ کروں گا ،مگر ہمیں اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ کسی کو اس کا علم نہ ہو۔ آپ دونوں مجھ سے کابینہ کی ایمرجنسی کمیٹی بنانے کے لئے کہیں گے اور میں اس سے اتفاق کروں گا۔

کیا آپ ایسا کریں گے؟‘‘
 ’’یس!‘‘ نہرو اور پٹیل نے بیک زبان جواب دیا۔۔۔’’آل رائٹ! آپ نے مجھے ایمرجنسی کمیٹی بنانے کا کہہ دیاہے۔ اب میں اس کی سربراہی کروں گا۔ ایمرجنسی کمیٹی میں صرف وہ لوگ ہوں گے جنہیں میں نامزد کروں گا‘‘۔۔۔’’آپ پوری کابینہ کو اس کا حصہ بنا سکتے ہیں‘‘ ؟ نہرو نے کہا۔۔۔’’نان سینس! ایسا کرنا تباہ کن ہو گا۔ مجھے ایسے سرکاری لوگوں کی ضرورت ہے جو عملی طور پر کام کر سکیں۔ اس میں ڈائریکٹر آف سول ایوی ایشن‘ ڈائریکٹر آف ریلویز اور انڈین میڈیکل سروسز کے سربراہ شامل ہوں گے۔ میری بیوی رضاکارتنظیموں اور ریڈکراس کی سربراہ ہو گی۔ کمیٹی کا سیکرٹری میرا کانفرنس سیکرٹری جنرل ارسکن ہو گا۔ اس کمیٹی کی روداد کو انگریز ٹائپسٹ ٹائپ کریں گے اور آپ مجھے یہ سب کچھ کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔‘‘

’’ہاں ہم کہہ رہے ہیں۔‘‘ نہرو اور پٹیل نے کہا:ماؤنٹ بیٹن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’اجلاس میں وزیراعظم میرے دائیں طرف اور ڈپٹی وز یراعظم بائیں طرف بیٹھیں گے۔ میں آپ سے مشورہ کروں گا ،مگر آپ دونوں کسی معاملے میں میرے ساتھ بحث نہیں کریں گے بلکہ صرف میری تائید کریں گے۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے‘‘۔۔۔’’مگر کیا ہم۔۔۔۔‘‘ پٹیل نے بات کرنے کی کوشش کی، مگر ماؤنٹ بیٹن نے اسے درمیان میں ٹوکتے ہوئے کہا :’’معاملات میں تاخیر کرنے کا وقت نہیں ہے۔ آپ مجھے بتائیں کہ کیا آپ مجھے ملک چلانے دیں گے یا نہیں؟‘‘
 ’’آل رائٹ آپ اس ملک کو چلائیں۔‘‘ بوڑھے سیاستدان نے سرتسلیم خم کرتے ہوئے کہا۔
اگلے پندرہ منٹ میں تینوں نے مل کر ایمرجنسی کمیٹی ارکان کی فہرست مکمل کی اور ماؤنٹ بیٹن نے اسی روز شام پانچ بجے اس کمیٹی کی میٹنگ بلا لی۔
 اس ایمرجنسی کمیٹی نے حیرت انگیز تیز رفتاری سے کام کیا۔ ماؤنٹ بیٹن نے وائسرائے ہاؤس میں اس کے دفاتر قائم کر دیئے۔ فوج نے متاثرہ علاقوں کے تفصیلی نقشے فراہم کئے۔ ایئرفروس کو ہدایت کی گئی کہ طیارے پنجاب کے متاثرہ علاقوں پر پروازیں شروع کر دیں اور ہر گھنٹے مہاجرین کے قافلوں کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی جائیں۔ ریلوے کی پٹریوں کی فضائی نگرانی شروع ہو گئی۔ ٹرینوں کے ساتھ زیادہ تعداد میں گارڈ متعین کئے جانے لگے۔ماؤنٹ بیٹن نے ہدایت کی کہ اگر کسی ٹرین پر حملہ ہوا اور اس کے گارڈ گولی نہ چلائیں تو ان کا کورٹ مارشل کیا جائے اور انہیں گولی مار دی جائے۔تقسیم کے بعد ہونے والے قتل عام کو تاریخ کا ایک بڑا المیہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اگر ماؤنٹ بیٹن انڈیا کی قیادت سنبھالنے سے انکار کر دیتا تو پورا برصغیر خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا تھا۔ ماؤنٹ بیٹن نے سخت فیصلے کئے، مگر آہستہ آہستہ معاملات بہتر ہوتے گئے۔ مہاتما گاندھی جو تقسیم سے خوش نہیں تھے انہوں نے بھی نئے انتظام پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔بھارت میں آج نریندر مودی کی حکومت ہے۔ انہوں نے نہرو کے خلاف مہم چلا رکھی ہے کیونکہ نہرو کانگریس کے لیڈر ہیں، تاہم وہ سردار ٹیل کو بھارت کے نئے ہیرو کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ انہیں اپنا لیڈر قرار دے رہے ہیں۔ سردار پٹیل نے نوشتہ دیوار پڑھا تھا۔ انہوں نے تقسیم ہند کے فیصلے کو تسلیم کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے نہرو کے ساتھ مل کر حکومت کو لارڈماؤنٹ بیٹن کے سپرد کیا تھا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہی بہترین قومی مفاد ہے، مگرآج بھارتی قیادت میں پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل جیسی سیاسی بصیرت اور جرات نظر نہیں آتی۔ بھارتی سیاستدان عوامی جذبات کو آگ لگا کر ووٹ حاصل کرنے کا ہنر تو جانتے ہیں ،مگر عالمی سیاست کے تناظر میں کوئی بڑا کردار ادا کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ برصغیر کے پیچیدہ مسائل حل ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے ہے۔برصغیر میں کروڑوں لوگ اس دن کا انتظار کررہے ہیں جب اس خطے سے جنگی جنون ختم ہو گا اور غربت اور جہالت کے خلاف جنگ کا آغاز ہو گا۔