کفیاتی تغیر میں انتظار کی اہمیت   -   تحریر:عمر حسن

بجا ہے کہ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں۔ انسان ہو یا اسکی کیفیت، تغیر اک ایسی چیز ہے جو اسکی فطرت میں موجود ہے۔ اسی ضمن میں ایک واقع پیش کرتا ہوں۔ گوندل صاحب کی کہانی میری زبانی۔ گوندل صاحب سرگودھا بورڈ کے ٹاپر ہیں اور ملک کی ایک نامور یونیورسٹی160 کے ہونہار طالب علم۔ ہوا کچھ ایسے کہ پچھلے سال محترم گوندل صاحب نے وادیِ عشق میں قدم رکھا اور حالت کچھ ایسی ہو گئی جیسے جل بن مچھلی۔ 6 ماہ بعد جو شرفِ ملاقات حاصل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گوندل صاحب تو اعصابی تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔ 2/4 ہمدردی کے جملے بولنے کی دیر تھی کہ جناب نے حالِ دل بیان کرنا شروع کر دیا۔گوندل صاحب کا مسلہ سنگین تھا۔ اصل میں جناب love at first sight کے قائل تو ہمیشہ سے ہی ہیں تو یہ سب ہونا تو متوقع تھا۔ بقول جناب کے نسرین کی آنکھوں میں ایک جادو تھا۔ تیر ایسے چلے ان نظروں سے کہ ہمارے گوندل صاحب کا دل چھلنی ہو چکا تھا۔ انکار کا ڈر اظہار کی ہمت پر غالب تھا لہٰذا کچھ عرصہ جناب نے خود کو صنم بنائے رکھا۔ بعد اذاں احباب نے جناب کی ہمت بھڑائی اور محترم نے facebook پر نسرین کو میسج بھیج دیا۔ اس میسج کی قسمت میں کچرے کا ڈھیر ہی لکھا تھا جسے عام زبان میں other messages کہتے ہیں لیکن گوندل صاحب نے بھی عاشق صادق بننے کی قسم کھا رکھی تھی۔ بالآخر تیسرے میسج کا جواب آ گیا اور جناب کا دل garden garden ہو گیا۔ ایک درویش نے جناب کو مشورہ دیا تھا کہ،"نسرین کی عادت بن جاؤ" لہٰذا وہ اسی مشورے پر عمل کر رہے تھے۔ نفاست اور شرافت کا لبادہ اوڑھے گوندل صاحب نے ابتدائی دنوں میں ہی نسرین کی قربت حاصل کر لی ۔ وہ الگ بات ہے کہ دو ہفتوں کے لیے گوندل صاحب نے friendzone ہونے کا قرب بھی برداشت کیا۔ جلد ہی محترم نے حالِ دل بیان کر دیا اور نسرین کو یقین دلایا جذبات کی صداقت کا۔ آہستہ آہستہ جناب کو اس کام میں کامیابی حاصل ہوئی اور عشق کی فتح ہوئی لیکن رکیے! یہ اختتام نہیں۔مزاحیہ انداز میں بہت بات ہو گئی اب تھوڑا سنجیدہ گفتگو کی طرف آتے ہیں۔ ایک مہینے کے قلیل عرصے میں ہی گوندل صاحب کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گئے تھے اس معاملے میں۔ اپنی خوشی و غمی انکے اپنے اختیار میں نہیں رہی۔ مجھے نہیں پتہ میں اسے جناب کا پاگل پن سمجھوں،یا قدرت کی طرف سے آزمائش۔160 قصّہ مختصر یہ کہ جناب کی زندگی کا انحصار اب نسرین پر ہی تھا۔ اسکے علاوہ محترم کو کوئی اور نظر ہی نہیں آتا تھا زندگی میں۔ چار مہینے بعد ہی بے وفائی کا روگ لگ گیا اور زندگی کے بد ترین دن آ گئے۔ زندگی موت سے بد تر ہو چکی تھی۔ بے چینی اور گھبراہٹ اپنے عروج پر تھی۔ کسی کام میں دل نہیں لگتا تھا اور بظاھر زندہ رہنے کا کوئی مقصد نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ ایک ہفتہ گوندل صاحب کی زندگی کا بد ترین ہفتہ تھا۔ Psychiatrist سے معائینہ کرایا جس نے سکون کے لیے Brolite کی آدھی گولی تجویز کی۔اس واقع کے ٹھیک ایک ہفتے بعد جب دوبارہ شرف ملاقات حاصل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جناب کی کیفیت160 180 کے زاویہ پر آ چکی ہے اور کہہ رہے ہیں کہ اب میں نے اسے بھلا دیا ہے، وہ بس ایک برا خواب تھا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اگرچہ آسمان رنگ بدلتا ہے لیکن رنگوں کا اس قدر جلدی بدلنا عاجز کی عقل سے باہر تھا۔ گوندل صاحب بعد میں بھی پریشان رہتے تھے لیکن کہتے تھے کہ وجہ وہ نہیں ہے۔ انہیں خود نہیں پتہ تھا کہ وجہ آخر ہے کیا ،میں نے صرف ایک بات کی کہ ،"گوندل صاحب جذبات کو طبعی موت مرنے دیں،انکا قتل نہ کریں۔" خوشی اس بات کی ہوئی کہ جناب نے عاجز کی بات کو سنجیدہ لیا اور جذبات کو کچلنے Repression of emotions سے گریز کیا۔ محترم نے افاقہ حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں شروع کر دیں۔ اب جب بھی جذبات کی موجوں میں طغیانی آتی تو جناب اسے نہ روکتے بلکہ اسکی موجودگی کو حق سمجھتے ہوے اپنا دھیان کہیں اور لگانے کی کوشش کرتے۔ یہ مشق کافی عرصہ جاری رہی اور پھر بالآ خر ایک وقت آیا کے جذبات تو موجود تھے لیکن انکی شدت وہ نہ رہی اور رفتہ رفتہ انکی موجودگی و غیر موجودگی مترادف ہونے لگی۔ لہٰذا یوں گوندل صاحب کی زیست میں بہار آئی پھر سے اور معلوم ہوا کہ جذبات کے کھیل کے اصول کیا ہیں۔دیکھے ! یہ تو تھا گوندل صاحب کا واقع لیکن اس واقع کا سہارا لیتے ہوے جو بات میں کہنا چاہ رہا ہوں وہ یہ کہ،"جذبات کے قتل اور طبعی موت میں فرق اور کفیاتی تغیر160 میں انتظار کی اہمیت۔" زندگی میں کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو مستقبل میں بھی محض ایذا رسانی کا ہی کام دیتے ہیں۔ ایسی یادوں سے فرار حاصل کرنے کے لیے بندہ ان جذبات160 اور احساسات کو دبا کر ذہن کے کسی کونے میں دفن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ محض دبانے سے افاقہ نہیں مل سکتا بلکے وہی دبے جاذبات ایک انگارے کے محتاج ہوتے ہیں اور بدن میں اعصابی تناؤ کی آگ لگا دیتے ہیں۔ وہی دبے جذبات مستقل بیچینی کا سبب ہوتے ہیں۔ اسکا بنیادی حل قلب ماہیت Metamorphism160 ہے یعنی کہ جذبات160 تو رہیں لیکن انکی حیثیت بدل جائے۔ جیسے نفرت کو محبت میں بدلنے کی کوشش کرنا۔ بجا ہے کہ یہ کوشش آسان نہیں۔ اگر دل کہ رہا ہے کہ نفرت ہے تو زبردستی محبت کو مسلّط نہ کریں۔ نہ جذبات160 کو دانستہ یاد کریں نہ دانستہ بھلا?یں۔ کینہ حسد فسق و فجور کو طبعی موت مرنے دیں وقت کے ساتھ پھر ہی قلب ماہیت کا فائدہ ہوگا۔ یعنی کہ بندہ عادی ہو جائے جذبات کو حق تسلیم کرنے کا اور دھیان کہیں اور لگانے کا تو جلد جذبات اپنی وقعت کھو دیتے ہیں اور بندہ کیفیت160 پر قابو پا لیتا ہے۔ کیفیاتی تغیر160 یعنی کہ کیفیات کے بدلنے میں اصل اہمیت انتظار کی ہے تاکہ بندہ جذبات کو کچلے مت۔ اسی میں بہتری ہے