(فلسفہ قربانی)   -   تحریرمولانا امیرمحمد اکرم اعوان

اسلام میں دو تہوار ہیں ایک رمضان المبارک کے تشکر کے طور پر جسے یوم عید کہتے ہیں اور دوسرا عید قربان یا عید الاضحی۔یہ سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام کی عظیم قربانی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عظیم اثیار کی نہ صرف یاد گار ہے بلکہ اس میں حکمت الہیٰ یہ پوشیدہ ہے کہ جو اجر، جو برکات ،جو کیفیات اور جس طرح کی رحمتیں سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام پر سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام کو قربان کرنے میں نازل ہوئیں اُن میں امتِ محمدیہ علی صاحبہ الصلوہ والسلام کو شریک بنا دیا۔
قربانی کا ایک فلسفہ یہ ہے کہ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام کے ساتھ لفظ ’’خلیل اللہ‘‘ ہے۔یوں تو سارے نبی اللہ کے دوست ہوتے ہیں۔ہر ولی اللہ کا دوست ہوتا ہے۔ہر مسلمان اللہ کا دوست ہوتا ہے اللہ سے دشمنی تو صرف کافر کے نصیب میں ہے لیکن بعض لوگ اِس دوستی میں اِس حد تک آگے چلے گئے کہ یہی اُن کا نشان بن گیا۔جن میں سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلا م کا امتیازی نشان خلیل اللہ۔اب اس دوستی کا اظہار انسانوں پر بھی اور فرشتوں پر بھی ربِ جلیل نے اس طرح فرمایا۔اللہ تو خود جانتا ہے ہر کام کو،ہر بات کو،ہر لمحے کو۔لیکن اس میں محبتِ ابراہیمی اور اپنے ساتھ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعلق کو اپنی مخلوق پر ظاہر کرنے کیلئے ایک عجیب انداز اپنایا۔اُن کی عمر اسی برس سے تجاوز کر رہی تھی اِس عمر میں بیٹا عطا فرمایا۔پہلے تو حکم دیا کہ زوجہ محتر مہ اور بچے کو وہاں چھو ڑ آؤ جہاں آج بیت اللہ شریف ہے اور اس میں کئی میلوں تک بلکہ سینکڑوں میلوں تک آبادی کا نشان نہیں ملتا جبرائیل امین نے رہنمائی کی اور سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام
وہاں چھوڑ آئے۔
؁ ؁حضرت حاجرہ کا بے تاب ،بے قرار ہو کر پہاڑوں پر دوڑنا۔اسمعٰیل علیہ السلام کی بے تابی۔ زم زم کا وہاں سے نمودار ہونا۔اس کے بعد جب وہ کچھ بڑے ہوئے۔ سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام کے بارے قرآنِ حکیم بتاتا ہے۔’’ فلما بلغ معہ العی‘‘۔یعنی جب وہ اس قابل ہوئے کہ انگلی پکڑ کر ساتھ چل سکیں تو اللہ نے حکم دیا کہ آپ علیہ السلام اسے میری راہ میں قربان کر دیں۔آپ اندازہ کریں کہ جس اللہ کے بندے کی عمر اسی برس سے تجاوز کر رہی اُس عمر میں فرزند عطا ہو جس کی پیشانی میں نورِ نبوت درخشاں ہو پھر اس بچے کی عمر کا وہ حصہ جو بچپنے والا ہوتا ہے اس کے بعد وہ حکم دیا جائے کہ اِسے میری راہ میں قربان کر دو تو اِس کیلئے کتنی محبت چاہیے حکم دینے والے کے ساتھ کہ آدمی اس کی گردن پر چھری رکھ دے۔تو یہ وہ نظارہ جو رب العالمین نے اُن فرشتوں کو بھی کرا دیا جو کہتے تھے کہ تخلیقِ آدم سے کیا فائدہ ہو گا یہ زمین پر فساد ہی کریں گے۔اللہ کریم نے اُنھیں دکھا دیا کہ ان میں ایسے بھی ہیں کہ جو سب کچھ میرے اشارے پر میرے نام پر ،میری خوشی کیلئے میری رضا کیلئے انتہا ئی عزیز ترین متاع اپنے ہاتھوں لٹا بھی سکتے ہیں۔
دوسرا پہلو جب آپ علیہ السلام نے بسمِ اللہ اللہ اکبر پڑھ کر سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلا دی خون کے فوارے ابلنے لگے لاشہ ترٹپنے لگا۔جب تڑپ کر ٹھنڈا ہو گیا تو آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو دیکھا سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام ساتھ کھڑے مسکرا رہے ہیں اور دنبہ کٹا پڑا ہے پریشان ہو گئے یا اللہ کیا میری قربانی قبول نہیں ہوئی تو اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا۔’’قد صدقت الریا یا ابراہیم‘‘۔اے ابراہیم تو نے سچ کر دکھایا یہ میری مرضی کہ میں نے اسمٰعیل کو بچا دیا اور دنبہ ذبح کرا دیا۔’’وفدینہ بذبح عظیم‘‘ میں نے اس کے بدلے بے شمار قربا نیاں قبول کر لیں چنانچہ یہ ذبح عظیم ہے۔
اس میں اُس وقت سے لیکر قیامت تک جتنے لوگ شہید ہونگے وہ بدر اُحد میں ہوئے مکہ مکرمہ میں ہوئے مدنیہ منورہ میں ہوئے غزواتِ نبوی علیہ الصلوۃ والسلام میں ہوئے اُس کے بعد ہوئے۔آج ہو رہے ہیں افغانستان میں ہوئے کشمیر میں ہوئے فلسطین میں ہوئے۔ عراق میں ہوئے پاکستان میں ہوئے۔خواہ کوئی کربلا میں لاشے تڑپے۔ خواہ کوئی لاشہ بدر واُحد میں تڑپا۔ خانوادہ نبوی کے چراغ تھے یا ا مت نبوی کے جگر گوشے تھے بطفیلِ محمدﷺ ہر شہید کو ذبح اور قربانی کی لذت میں شریک کر دیا اور اُس قربانی کو حج کا رکن قرار دےِ دیا۔
اب شہید تو شہید ہو کر لطف لے گئے حجاج کرام نے مکہ مکرمہ منٰی میں جا کر اپنی قربانیاں پیش کر کے ثواب لے لیا۔تو عامہ المسلمین کہاں جائیں تو فرمایا جو مسلما ن روئے زمین پر جہاں بھی ہو جو جانور اِسے پسند ہو خوبصورت لگے پیارا لگے میری راہ میں قربان کر دے میں اُسے بھی ذبحِ عظیم میں شامل کر دونگا۔وہی برکات وہی انوارات۔وہی ر حمتیں اُس پر وارد ہونگی جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام پر وارد ہوئیں تھیں لہذا قربانی محض رسم نہیں ہے یہ اس طرح بھی نہیں ہے کہ خانہ پرُی کی جائے۔بلکہ پورے خلوص کے ساتھ قربانی کرے۔ یہ یقینی بات ہے کہ اگر ہم نے پورے خلوص سے قربانی کی تو صرف دنبہ قربان نہیں ہوگا صرف جانور ذبح نہیں ہو گا بلکہ اللہ ہمیں توفیق دے گاکہ ہم اُس کی اطاعت کے لیے اپنے مفادات قربان کر سکیں۔ہم عبادات کے اوقات میں آرام قربان کر سکیں ہم حلال کے مقابلے میں حرام قربان کر سکیں ہم میں عاداتِ ابراہیمی آنا شروع ہو جائیں تو یہ قربانی کا ایک نتیجہ ہے۔جسے ہم پرکھ سکتے ہیں کہ کیا ہماری قربانی رسمی تھی یا خلوص کے ساتھ تھی۔کچھ ہمارے دل میں جذبہ آیا کہ نہیں ہر ایک کا حال اللہ جانتا ہے یا کسی حد تک انسان خود اندازہ کر سکتا ہے۔
پھر قربانی کرتے وقت سوچو کہ میں کیا کرنے چلا ہوں یہ کس نے کہا تھا پھر بطفیلِ محمد ﷺ یہ سنتِ ابراہیمی تھی آپ کو تو انعام میں مل گئی آپ کا خود اس میں کوئی حق نہیں بنتا تھا اُس ربِ کریم نے انعام میں عطا کر دی کہ امتِ مرحومہ اس سعادت سے محروم نہ رہے اور پھر اسے یومِ عید قرار دے دیا فرمایا پہلے دوگانہ ادا کرو پھر قربانی کرو اور سوچ کر کرو کہ اے اللہ تو کتنا کریم ہے مجھے اجر وہ دے رہا ہے گویا میں بیٹا ذبح کر رہا ہوں اور میں ایک جانور ذبح کر رہا ہوں اُس درد کو محسوس کرو کہ اگر بیٹا ذبح کرنا ہوتا تو تمہارے دل کا کیا عالم ہوتا تو ربِ کریم نے اس چھوٹی سی قربانی پر اتنا بڑا دردِدل عطا کر دیا اب یہ تو اپنے شعور کی بات ہے کہ ہم وہ کیفیت وہ قرب وہ دردِ دل کتنا حاصل کرتے ہیں۔
اللہ کریم ہماری قربا نیوں کو قبول فرمائے دینِ برحق پر زندہ رکھے اور دینِ برحق پر موت نصیب فرمائے اور دین دار بندوں کے ساتھ حشر فرمائے۔آمین