خوف   -   بدر سیماب

ادھ رستے سے مڑ جاتے ہیں
ہم ماضی سے جڑ جاتے ہیں

ہوتا نہیں ایک کام بھی پورا
رہ جاتا ہے سپنا ادھورا

جانے کیسی حیرت میں گم
آدھے ہم اور آدھے تم

خوف کی کالی چادر اوڑھے
ہر موسم کو سہہ جاتے ہیں

رستے میں ہی رہ جاتے ہیں
اندیشوں کے گھنے گھنیرے

ان سوچے اور ان دیکھے
سمے کے گہرے جنگل میں

آگے جانے سے ڈرتے ہیں
ہم جیتے ہیں نہ مرتے ہیں

ہر بار یہی بس کرتے ہیں
اودھ رستے سے مڑ جاتے ہیں

ہم ماضی سے جڑ جاتے ہیں