دامن پہ لگے داغ مٹانے تو پڑیں گے    -   سید صداقت علی

دامن پہ لگے داغ مٹانے تو پڑیں گے 
جو قرض ہیں آنسو وہ بہانے تو پڑیں گے


کب تک ہو زرِ وقت کے لٹ جانے کا ماتم 
آنکھوں میں نئے خواب سجانے تو پڑیں گے 


نفرت کا یہ سورج نہ کہیں شہر جلا دے
اب پیڑ محبت کے لگانے تو پڑیں گے 

 

یہ دور دکھاوے کا ہے سو عشق میں ہم کو 
جو زخم چھپانے تھے دکھانے تو پڑیں گے


جذبوں کی صداقت سے ہمیں عشق کے دم سے 
سوئے ہوئے یہ لوگ جگانے تو پڑیں گے